ابنا: سرفراز شاہ قتل کیس میں گرفتار6 رینجرز اہلکاروں سمیت سات ملزمان کو جوڈیشنل مجسٹریٹ ندیم بدر قاضی کی عدالت میں پیش کیاگیاجہاں مقدمے کے دو گواہوں کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164کے تحت مجسٹریٹ کے روبروبیانات قلم بند کئے گئے ، دونوں گواہوں نے رینجرز اہلکاروں کوشناخت کرلیا۔۔گواہوں نے کہاکہ ملزم افسرخان نے مقتول سرفراز شاہ کو رینجرز اہلکاروں کے حوالے کیاتھاجبکہ رینجرزاہلکار شاہد ظفر نے سرفراز شاہ کوگولیاں ماریں۔۔گواہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ انہوں نے دیکھا کہ مقتول رینجرز اہلکاروں سے ہاتھ جوڑ کرمعافی مانگ رہا تھااور گولیاں لگنے کے بعد وہ تڑپتارہا لیکن کسی نے اس کی مدد نہیں کی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے علم میں یہ بات نہیں کہ مقتول نے پارک میں کوئی واردات کی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز